Hai aarmidagi mein nekohish baja mujhe
19th Century Mirza Ghalib Urduہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے صبح_وطن ہے خندۂ_دنداں_نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنی_آتش_نفس کو جی جس کی صدا ہو جلوۂ_برق_فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہ_وادی_خیال تا باز_گشت سے نہ رہے مدعا مجھے
کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے_حجابیاں آنے لگی ہے نکہت_گل سے حیا مجھے
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
واں رنگ_ہا بہ_پردۂ_تدبیر ہیں ہنوز یاں شعلۂ_چراغ ہے برگ_حنا مجھے
پرواز_ہا نیاز_تماشائے_حسن_دوست بال_کشادہ ہے نگۂ_آشنا مجھے
از_خود_گزشتگی میں خموشی پہ حرف ہے موج_غبار_سرمہ ہوئی ہے صدا مجھے
تا چند پست فطرتیٔ_طبع_آرزو یا رب ملے بلندیٔ_دست_دعا مجھے
میں نے جنوں سے کی جو اسدؔ التماس_رنگ خون_جگر میں ایک ہی غوطہ دیا مجھے
ہے پیچ_تاب رشتۂ_شمع_سحر_گہی خجلت گدازیٔ_نفس_نارسا مجھے
یاں آب_و_دانہ موسم_گل میں حرام ہے زنار_واگسستہ ہے موج_صبا مجھے
یکبار امتحان_ہوس بھی ضرور ہے اے جوش_عشق بادۂ_مرد_آزما مجھے