Hai baske har ek unke ishaare mein nishaan aur
19th Century Mirza Ghalib Urduہے بسکہ ہر اک ان کے اشارے میں نشاں اور کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گماں اور
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں_گے مری بات دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
ابرو سے ہے کیا اس نگہ_ناز کو پیوند ہے تیر مقرر مگر اس کی ہے کماں اور
تم شہر میں ہو تو ہمیں کیا غم جب اٹھیں_گے لے آئیں_گے بازار سے جا کر دل و جاں اور
ہر چند سبک_دست ہوئے بت_شکنی میں ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہے سنگ_گراں اور
ہے خون_جگر جوش میں دل کھول کے روتا ہوتے جو کئی دیدۂ_خوں_نابہ_فشاں اور
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑ جائے جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
لوگوں کو ہے خورشید_جہاں_تاب کا دھوکا ہر روز دکھاتا ہوں میں اک داغ_نہاں اور
لیتا نہ اگر دل تمہیں دیتا کوئی دم چین کرتا جو نہ مرتا کوئی دن آہ_و_فغاں اور
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
ہیں اور بھی دنیا میں سخن_ور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز_بیاں اور