Hai bazm-e-butaan mein sukhan aazurda-labon se
19th Century Mirza Ghalib Urduہے بزم_بتاں میں سخن آزردہ_لبوں سے تنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد_طلبوں سے
ہے دور_قدح وجہ_پریشانی_صہبا یک_بار لگا دو خم_مے میرے لبوں سے
رندان_در_مے_کدہ گستاخ ہیں زاہد زنہار نہ ہونا طرف ان بے_ادبوں سے
بیداد_وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخر ہر_چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
کیا پوچھے ہے بر_خود غلطیہائے_عزیزاں خواری کو بھی اک عار ہے عالی_نسبوں سے
گو تم کو رضا_جوئی_اغیار ہے لیکن جاتی ہے ملاقات کب ایسے سببوں سے
مت پوچھ اسدؔ وعدۂ_کم_فرصتیٔ_زیست دو دن بھی جو کاٹے تو قیامت تعبوں سے