Hai kis qadar halaak-e-fareb-e-wafa-e-gul
19th Century Mirza Ghalib Urduہے کس قدر ہلاک_فریب_وفائے_گل بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ_ہائے_گل
آزادی_نسیم مبارک کہ ہر طرف ٹوٹے پڑے ہیں حلقۂ_دام_ہوائے_گل
جو تھا سو موج_رنگ کے دھوکے میں مر گیا اے واے نالۂ_لب_خونیں_نوائے_گل
خوش_حال اس حریف_سیہ_مست کا کہ جو رکھتا ہو مثل_سایۂ_گل سر_بہ_پائے_گل
ایجاد کرتی ہے اسے تیرے لیے بہار میرا رقیب ہے نفس_عطر_سائے_گل
شرمندہ رکھتے ہیں مجھے باد_بہار سے مینائے_بے_شراب و دل_بے_ہوائے_گل
سطوت سے تیرے جلوۂ_حسن_غیور کی خوں ہے مری نگاہ میں رنگ_ادائے_گل
تیرے ہی جلوہ کا ہے یہ دھوکا کہ آج تک بے_اختیار دوڑے ہے گل در_قفائے_گل
غالبؔ مجھے ہے اس سے ہم_آغوشی آرزو جس کا خیال ہے گل_جیب_قبائے_گل
دیوانگاں کا چارہ فروغ_بہار ہے ہے شاخ_گل میں پنجۂ_خوباں بجائے گل
مژگاں تلک رسائی_لخت_جگر کہاں اے وائے گر نگاہ نہ ہو آشنائے_گل