Dil-e-naadaan tujhe hua kya hai
19th Century Mirza Ghalib Urduدل_ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری_چہرہ لوگ کیسے ہیں غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکن_زلف_عنبریں کیوں ہے نگہ_چشم_سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا اور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے