Diya hai dil agar uss ko, bashar hai kya kahiye
19th Century Mirza Ghalib Urduدیا ہے دل اگر اس کو بشر ہے کیا کہئے ہوا رقیب تو ہو نامہ_بر ہے کیا کہئے
یہ ضد کہ آج نہ آوے اور آئے بن نہ رہے قضا سے شکوہ ہمیں کس قدر ہے کیا کہئے
رہے ہے یوں گہہ_و_بے_گہہ کہ کوئے_دوست کو اب اگر نہ کہیے کہ دشمن کا گھر ہے کیا کہئے
زہے کرشمہ کہ یوں دے رکھا ہے ہم کو فریب کہ بن کہے ہی انہیں سب خبر ہے کیا کہئے
سمجھ کے کرتے ہیں بازار میں وہ پرسش_حال کہ یہ کہے کہ سر_رہ_گزر ہے کیا کہئے
تمہیں نہیں ہے سر_رشتۂ_وفا کا خیال ہمارے ہاتھ میں کچھ ہے مگر ہے کیا کہئے
انہیں سوال پہ زعم_جنوں ہے کیوں لڑیے ہمیں جواب سے قطع_نظر ہے کیا کہئے
حسد سزائے_کمال_سخن ہے کیا کیجیے ستم بہائے_متاع_ہنر ہے کیا کہئے
کہا ہے کس نے کہ غالبؔ برا نہیں لیکن سوائے اس کے کہ آشفتہ_سر ہے کیا کہئے