Dono jahan de ke woh samjhe yeh khush raha
19th Century Mirza Ghalib Urduدونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں
تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے تیرا پتہ نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
کیا شمع کے نہیں ہیں ہوا_خواہ بزم میں ہو غم ہی جاں_گداز تو غم_خوار کیا کریں