Dost gham-khwaari mein meri sa'i farmaaveinge kya
19th Century Mirza Ghalib Urduدوست غم_خواری میں میری سعی فرماویں_گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں_گے کیا
بے_نیازی حد سے گزری بندہ_پرور کب تلک ہم کہیں_گے حال_دل اور آپ فرماویں_گے کیا
حضرت_ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش_راہ کوئی مجھ کو یہ تو سمجھا دو کہ سمجھاویں_گے کیا
آج واں تیغ و کفن باندھے ہوے جاتا ہوں میں عذر میرے قتل کرنے میں وہ اب لاویں_گے کیا
گر کیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی یہ جنون_عشق کے انداز چھٹ جاویں_گے کیا
خانہ_زاد_زلف ہیں زنجیر سے بھاگیں_گے کیوں ہیں گرفتار_وفا زنداں سے گھبراویں_گے کیا
ہے اب اس معمورہ میں قحط_غم_الفت اسدؔ ہم نے یہ مانا کہ دلی میں رہیں کھاویں_گے کیا