Ek ek qatre ka mujhe dena pada hisaab
19th Century Mirza Ghalib Urduایک ایک قطرہ کا مجھے دینا پڑا حساب خون_جگر ودیعت_مژگان_یار تھا
اب میں ہوں اور ماتم_یک_شہر_آرزو توڑا جو تو نے آئنہ تمثال_دار تھا
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں جاں_دادۂ_ہوائے_سر_رہ_گزار تھا
موج_سراب_دشت_وفا کا نہ پوچھ حال ہر ذرہ مثل_جوہر_تیغ آب_دار تھا
کم جانتے تھے ہم بھی غم_عشق کو پر اب دیکھا تو کم ہوئے پہ غم_روزگار تھا
کس کا جنون_دید تمنا_شکار تھا آئینہ_خانہ وادیٔ_جوہر_غبار تھا
کس کا خیال آئنۂ_انتظار تھا ہر برگ_گل کے پردے میں دل بے_قرار تھا
جوں غنچہ_و_گل آفت_فال_نظر نہ پوچھ پیکاں سے تیرے جلوۂ_زخم آشکار تھا
دیکھی وفائے_فرصت_رنج_و_نشاط_دہر خمیازہ یک_درازی_عمر_خمار تھا
صبح_قیامت ایک دم_گرگ تھی اسدؔ جس دشت میں وہ شوخ_دو_عالم شکار تھا