Ek ja harf-e-wafa likha tha so bhi मिट gaya
19th Century Mirza Ghalib Urduایک جا حرف_وفا لکھا تھا سو بھی مٹ گیا ظاہراً کاغذ ترے خط کا غلط_بردار ہے
جی جلے ذوق_فنا کی ناتمامی پر نہ کیوں ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش_بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا ہر کوئی درماندگی میں نالہ سے ناچار ہے
ہے وہی بد_مستی_ہر_ذرہ کا خود عذر_خواہ جس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
مجھ سے مت کہہ تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
آنکھ کی تصویر سر_نامے پہ کھینچی ہے کہ تا تجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرت_دیدار ہے