Dil se teri nigaah jigar tak utar gayi
19th Century Mirza Ghalib Urduدل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی
شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذت_فراغ تکلیف_پردہ_داری_زخم_جگر گئی
وہ بادۂ_شبانہ کی سرمستیاں کہاں اٹھیے بس اب کہ لذت_خواب_سحر گئی
اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے_یار میں بارے اب اے ہوا ہوس_بال_و_پر گئی
دیکھو تو دل_فریبی_انداز_نقش_پا موج_خرام_یار بھی کیا گل کتر گئی
ہر بوالہوس نے حسن_پرستی شعار کی اب آبروئے_شیوۂ_اہل_نظر گئی
نظارہ نے بھی کام کیا واں نقاب کا مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی
فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی
مارا زمانہ نے اسداللہ خاں تمہیں وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی