Dil laga kar lag gaya unko bhi tanha baithna
19th Century Mirza Ghalib Urduدل لگا کر لگ گیا ان کو بھی تنہا بیٹھنا بارے اپنی بیکسی کی ہم نے پائی داد یاں
ہیں زوال_آمادہ اجزا آفرینش کے تمام مہر_گردوں ہے چراغ_رہ_گزار_باد یاں
ہے ترحم_آفریں آرائش_بیداد یاں اشک_چشم_دام ہے ہر دانۂ_صیاد یاں
ہے گداز_موم انداز_چکیدن_ہائے_خوں نیش_زنبور_اصل ہے نشتر_فصاد یاں
نا_گوارا ہے ہمیں احسان_صاحب_دولتاں ہے زر_گل بھی نظر میں جوہر_فولاد یاں
جنبش_دل سے ہوئے ہیں عقدہ_ہائے_کار وا کمتریں مزدور_سنگیں_دست ہے فرہاد یاں
قطرہ_ہائے_خون_بسمل زیب_داماں ہیں اسدؔ ہے تماشہ کردنی گل_چینیٔ_جلاد یاں