Dil hi to hai na sang-o-khisht, dard se bhar na aaye kyun-
19th Century Mirza Ghalib Urduدل ہی تو ہے نہ سنگ_و_خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں_گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ_گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں
جب وہ جمال_دلفروز صورت_مہر_نیمروز آپ ہی ہو نظارہ_سوز پردے میں منہ چھپائے کیوں
دشنۂ_غمزہ جاں_ستاں ناوک_ناز بے_پناہ تیرا ہی عکس_رخ سہی سامنے تیرے آئے کیوں
قید_حیات و بند_غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں
حسن اور اس پہ حسن_ظن رہ گئی بوالہوس کی شرم اپنے پہ اعتماد ہے غیر کو آزمائے کیوں
واں وہ غرور_عز_و_ناز یاں یہ حجاب_پاس_وضع راہ میں ہم ملیں کہاں بزم میں وہ بلائے کیوں
ہاں وہ نہیں خدا_پرست جاؤ وہ بے_وفا سہی جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
غالبؔ_خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں روئیے زار زار کیا کیجیے ہائے ہائے کیوں