Dhamki mein mar gaya jo na baab-e-nabard tha
19th Century Mirza Ghalib Urduدھمکی میں مر گیا جو نہ باب_نبرد تھا عشق_نبرد_پیشہ طلب_گار_مرد تھا
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا
تالیف نسخہ_ہائے_وفا کر رہا تھا میں مجموعۂ_خیال ابھی فرد فرد تھا
دل تا جگر کہ ساحل_دریائے_خوں ہے اب اس رہ_گزر میں جلوۂ_گل آگے گرد تھا
جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہ_عشق کی دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
احباب چارہ_سازی_وحشت نہ کر سکے زنداں میں بھی خیال بیاباں_نورد تھا
یہ لاش_بے_کفن اسدؔ_خستہ_جاں کی ہے حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا