raha gar koi ta-qayamat salamat
19th Century Mirza Ghalib Urduرہا گر کوئی تا_قیامت سلامت پھر اک روز مرنا ہے حضرت_سلامت
جگر کو مرے عشق_خوں_نابہ_مشرب لکھے ہے خداوند_نعمت سلامت
علی_الرغم_دشمن شہید_وفا ہوں مبارک مبارک سلامت سلامت
نہیں گر سر_و_برگ_ادراک_معنی تماشاۓ_نیرنگ_صورت سلامت
دو_عالم کی ہستی پہ خط_فنا کھینچ دل_و_دست_ارباب_ہمت سلامت
نہیں گر بہ_کام_دل_خستہ گردوں جگر_خائی_جوش_حسرت سلامت
نہ اوروں کی سنتا نہ کہتا ہوں اپنی سر_خستہ دشوار_وحشت سلامت
وفور_بلا ہے ہجوم_وفا ہے سلامت ملامت ملامت سلامت
نہ فکر_سلامت نہ بیم_ملامت ز_خود_رفتگی_ہائے_حیرت سلامت
رہے غالبؔ_خستہ مغلوب_گردوں یہ کیا بے_نیازی ہے حضرت_سلامت