pa-ba-daaman ho raha hoon baske main sahra-navard
19th Century Mirza Ghalib Urduپا_بہ_دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا_نورد خار_پا ہیں جوہر_آئینۂ_زانو مجھے
دیکھنا حالت مرے دل کی ہم_آغوشی کے وقت ہے نگاہ_آشنا تیرا سر_ہر_مو مجھے
ہوں سراپا ساز_آہنگ_شکایت کچھ نہ پوچھ ہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے
باعث_واماندگی ہے عمر_فرصت_جو مجھے کر دیا ہے پا_بہ_زنجیر_رم_آہو مجھے
خاک_فرصت برسر_ذوق_فنا اے انتظار ہے غبار_شیشۂ_ساعت رم_آہو مجھے
ہم_زباں آیا نظر فکر_سخن میں تو مجھے مردمک ہے طوطیٔ_آئینۂ_زانو مجھے
یاد_مژگاں میں بہ_نشتر_زار_سودائے_خیال چاہیے وقت_تپش یک_دست صد_پہلو مجھے
اضطراب_عمر بے_مطلب نہیں آخر کہ ہے جستجوئے_فرصت_ربط_سر_زانو مجھے
چاہیے درمان_ریش_دل بھی تیغ_یار سے مرم_زنگار ہے وہ وسمۂ_ابرو مجھے
کثرت_جور_و_ستم سے ہو گیا ہوں بے_دماغ خوب_رویوں نے بنایا غالبؔ_بد_خو مجھے
فرصت_آرام_غش ہستی ہے بحران_عدم ہے شکست_رنگ_امکاں گردش_پہلو مجھے
ساز_ایمائے_فنا ہے عالم_پیری اسدؔ قامت_خم سے ہے حاصل شوخیٔ_ابرو مجھے