saadgi par us ki mar jaane ki hasrat dil mein hai
19th Century Mirza Ghalib Urduسادگی پر اس کی مر جانے کی حسرت دل میں ہے بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف_قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے باایں_ہمہ ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجوم_ناامیدی خاک میں مل جائے_گی یہ جو اک لذت ہماری سعیٔ_بے_حاصل میں ہے
رنج_رہ کیوں کھینچیے واماندگی کو عشق ہے اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زار_آتش_دوزخ ہمارا دل سہی فتنۂ_شور_قیامت کس کے آب_و_گل میں ہے
ہے دل_شوریدۂ_غالبؔ طلسم_پیچ_و_تاب رحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے