sarapa rehn-e-ishq o na-guzir-e-ulfat-e-hasti
19th Century Mirza Ghalib Urduسراپا رہن_عشق_و_نا_گزیر_الفت_ہستی عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
بقدر_ظرف ہے ساقی خمار_تشنہ_کامی بھی جو تو دریاۓ_مے ہے تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
ز_بس خوں_گشتۂ_رشک_وفا تھا وہم بسمل کا چرایا زخم_ہائے_دل نے پانی تیغ_قاتل کا
نگاۂ_چشم_حاسد وام لے اے ذوق_خود_بینی تماشائی ہوں وحدت_خانۂ_آئینۂ_دل کا
شرر_فرصت نگہ سامان_یک_عالم چراغاں ہے بہ_قدر_رنگ یاں گردش میں ہے پیمانہ محفل کا
سراسر تاختن کو شش_جہت یک_عرصہ جولاں تھا ہوا واماندگی سے رہ_رواں کی فرق منزل کا
مجھے راہ_سخن میں خوف_گم_راہی نہیں غالب عصاۓ_خضر_صحراۓ_سخن ہے خامہ بے_دل کا