Shauq har rang raqeeb-e-sar-o-saamaan nikla
19th Century Mirza Ghalib Urduشوق ہر رنگ رقیب_سر_و_ساماں نکلا قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگئ_دل کی یا رب تیر بھی سینۂ_بسمل سے پرافشاں نکلا
بوئے_گل نالۂ_دل دود_چراغ_محفل جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
دل_حسرت_زدہ تھا مائدۂ_لذت_درد کام یاروں کا بہ_قدر_لب_و_دنداں نکلا
تھی نوآموز_فنا ہمت_دشوار_پسند سخت مشکل ہے کہ یہ کام بھی آساں نکلا
دل میں پھر گریہ نے اک شور اٹھایا غالبؔ آہ جو قطرہ نہ نکلا تھا سو طوفاں نکلا
کارخانے سے جنوں کے بھی میں عریاں نکلا میری قسمت کا نہ ایک_آدھ گریباں نکلا
ساغر_جلوۂ_سرشار ہے ہر ذرۂ_خاک شوق_دیدار بلا آئنہ_ساماں نکلا
کچھ کھٹکتا تھا مرے سینے میں لیکن آخر جس کو دل کہتے تھے سو تیر کا پیکاں نکلا
کس قدر خاک ہوا ہے دل_مجنوں یا رب نقش_ہر_ذرہ سویداۓ_بیاباں نکلا
شور_رسوائی_دل دیکھ کہ یک_نالۂ_شوق لاکھ پردے میں چھپا پر وہی عریاں نکلا
شوخیٔ_رنگ_حنا خون_وفا سے کب تک آخر اے عہد_شکن تو بھی پشیماں نکلا
جوہر_ایجاد_خط_سبز ہے خود_بینیٔ_حسن جو نہ دیکھا تھا سو آئینے میں پنہاں نکلا
میں بھی معذور_جنوں ہوں اسدؔ اے خانہ_خراب پیشوا لینے مجھے گھر سے بیاباں نکلا