Shabnam ba-gul-e-laala na khaali z-adaa hai
19th Century Mirza Ghalib Urduشبنم بہ_گل_لالہ نہ خالی ز_ادا ہے داغ_دل_بے_درد نظر_گاہ_حیا ہے
دل خوں_شدۂ_کشمکش_حسرت_دیدار آئینہ بہ_دست_بت_بد_مست حنا ہے
شعلے سے نہ ہوتی ہوس_شعلہ نے جو کی جی کس قدر افسردگی_دل پہ جلا ہے
تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بہ_صد_ذوق آئینہ بہ_انداز_گل آغوش_کشا ہے
قمری کف_خاکستر و بلبل قفس_رنگ اے نالہ نشان_جگر_سوختہ کیا ہے
خو نے تری افسردہ کیا وحشت_دل کو معشوقی و بے_حوصلگی طرفہ بلا ہے
مجبوری و دعواۓ_گرفتاری_الفت دست_تۂ_سنگ_آمدہ پیمان_وفا ہے
معلوم ہوا حال_شہیدان_گزشتہ تیغ_ستم آئینۂ_تصویر_نما ہے
اے پرتو_خورشید_جہاں_تاب ادھر بھی سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے
ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے
بیگانگی_خلق سے بیدل نہ ہو غالبؔ کوئی نہیں تیرا تو مری جان خدا ہے