Shab khumaar-e-shauq-e-saaqi rastakhez-andaaza tha
19th Century Mirza Ghalib Urduشب خمار_شوق_ساقی رستخیز_اندازہ تھا تامحیط_بادہ صورت خانۂ_خمیازہ تھا
یک قدم وحشت سے درس_دفتر_امکاں کھلا جادہ اجزائے_دو_عالم دشت کا شیرازہ تھا
مانع_وحشت_خرامی_ہائے_لیلیٰ کون ہے خانۂ_مجنون_صحراگرد بے_دروازہ تھا
پوچھ مت رسوائی_انداز_استغنائے_حسن دست مرہون_حنا رخسار رہن_غازہ تھا
نالۂ_دل نے دیے اوراق_لخت_دل بہ_باد یادگار_نالہ اک دیوان_بے_شیرازہ تھا
ہوں چراغان_ہوس جوں کاغذ_آتش_زدہ داغ گرم_کوشش_ایجاد_داغ_تازہ تھا
بے_نوائی تر صداۓ_نغمۂ_شہرت اسدؔ بوریا یک نیستاں_عالم بلند آوازہ تھا