Shikwe ke naam se be-mehr khafa hota hai
19th Century Mirza Ghalib Urduشکوے کے نام سے بے_مہر خفا ہوتا ہے یہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گلہ ہوتا ہے
پر ہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے
گو سمجھتا نہیں پر حسن_تلافی دیکھو شکوۂ_جور سے سرگرم_جفا ہوتا ہے
عشق کی راہ میں ہے چرخ_مکوکب کی وہ چال سست_رو جیسے کوئی آبلہ_پا ہوتا ہے
کیوں نہ ٹھہریں ہدف_ناوک_بیداد کہ ہم آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے
خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد_خواہ کہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے
نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور اب لب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے
خامہ میرا کہ وہ ہے باربد_بزم_سخن شاہ کی مدح میں یوں نغمہ_سرا ہوتا ہے
اے شہنشاہ_کواکب سپہ_و_مہر_علم تیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے
سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجے تو وہ لشکر کا ترے نعل_بہا ہوتا ہے
ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلال آستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے
میں جو گستاخ ہوں آئین_غزل_خوانی میں یہ بھی تیرا ہی کرم ذوق_فزا ہوتا ہے
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ_نوائی میں معاف آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے