Phir mujhe deeda-e-tar yaad aaya
19th Century Mirza Ghalib Urduپھر مجھے دیدۂ_تر یاد آیا دل جگر تشنۂ_فریاد آیا
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز پھر ترا وقت_سفر یاد آیا
سادگی_ہائے_تمنا یعنی پھر وہ نیرنگ_نظر یاد آیا
عذر_واماندگی اے حسرت_دل نالہ کرتا تھا جگر یاد آیا
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی کیوں ترا راہ_گزر یاد آیا
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہوگی گھر ترا خلد میں گر یاد آیا
آہ وہ جرأت_فریاد کہاں دل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
پھر ترے کوچہ کو جاتا ہے خیال دل_گم_گشتہ مگر یاد آیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
وصل میں ہجر کا ڈر یاد آیا عین جنت میں سقر یاد آیا