Qafas mein hoon gar achha bhi na jaanein mere shevan ko
19th Century Mirza Ghalib Urduقفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو مرا ہونا برا کیا ہے نوا_سنجان_گلشن کو
نہیں گر ہمدمی آساں نہ ہو یہ رشک کیا کم ہے نہ دی ہوتی خدایا آرزوئے_دوست دشمن کو
نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پر کیا سینے میں جس نے خوں_چکاں مژگان_سوزن کو
خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میں کبھی میرے گریباں کو کبھی جاناں کے دامن کو
ابھی ہم قتل_گہہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیں نہیں دیکھا شناور جوئے_خوں میں تیرے توسن کو
ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کا کیا بیتاب کاں میں جنبش_جوہر نے آہن کو
خوشی کیا کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوے سمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو
وفا_داری بشرط_استواری اصل ایماں ہے مرے بت_خانے میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کو جہاں تلوار کو دیکھا جھکا دیتا تھا گردن کو
نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے_خبر سوتا رہا کھٹکا نہ چوری کا دعا دیتا ہوں رہزن کو
سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کے جگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو
مرے شاہ_سلیماں_جاہ سے نسبت نہیں غالبؔ فریدون و جم و کے خسرو و داراب و بہمن کو