Qatra-e-mai bass ke hairat se nafas-parvar hua
19th Century Mirza Ghalib Urduقطرۂ_مے بسکہ حیرت سے نفس_پرور ہوا خط_جام_مے سراسر رشتۂ_گوہر ہوا
اعتبار_عشق کی خانہ_خرابی دیکھنا غیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
گرمیٔ_دولت ہوئی آتش_زن_نام_نکو خانۂ_خاتم میں یاقوت_نگیں اختر ہوا
نشہ میں گم_کردہ_راہ آیا وہ مست_فتنہ_خو آج رنگ_رفتہ دور_گردش_ساغر ہوا
درد سے در_پردہ دی مژگاں_سیاہاں نے شکست ریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا
زہد گردیدن ہے گرد_خانہ_ہائے_منعماں دانۂ_تسبیح سے میں مہرہ_در_ششدر ہوا
اے بہ_ضبط_حال_نا_افسردگاں جوش_جنوں نشۂ_مے ہے اگر یک_پردہ نازک_تر ہوا
اس چمن میں ریشہ_داری جس نے سر کھینچا اسدؔ تر زبان_لفظ_عام_ساقیٔ_کوثر ہوا