Phir kuchh ik dil ko be-qaraari hai
19th Century Mirza Ghalib Urduپھر کچھ اک دل کو بے_قراری ہے سینہ جویائے_زخم_کاری ہے
پھر جگر کھودنے لگا ناخن آمد_فصل_لالہ_کاری ہے
قبلۂ_مقصد_نگاہ_نیاز پھر وہی پردۂ_عماری ہے
چشم دلال_جنس_رسوائی دل خریدار_ذوق_خواری ہے
وہی صد_رنگ نالہ_فرسائی وہی صد_گونہ اشک_باری ہے
دل ہوائے_خرام_ناز سے پھر محشرستان_بیقراری ہے
جلوہ پھر عرض_ناز کرتا ہے روز بازار_جاں_سپاری ہے
پھر اسی بے_وفا پہ مرتے ہیں پھر وہی زندگی ہماری ہے
پھر کھلا ہے در_عدالت_ناز گرم_بازار_فوجداری ہے
ہو رہا ہے جہان میں اندھیر زلف کی پھر سرشتہ_داری ہے
پھر دیا پارۂ_جگر نے سوال ایک فریاد و آہ_و_زاری ہے
پھر ہوئے ہیں گواہ_عشق طلب اشک_باری کا حکم_جاری ہے
دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا آج پھر اس کی روبکاری ہے
بے_خودی بے_سبب نہیں غالبؔ کچھ تو ہے جس کی پردہ_داری ہے