Phir is andaaz se bahaar aayi
19th Century Mirza Ghalib Urduپھر اس انداز سے بہار آئی کہ ہوئے مہر_و_مہ تماشائی
دیکھو اے ساکنان_خطۂ_خاک اس کو کہتے ہیں عالم_آرائی
کہ زمیں ہو گئی ہے سر_تا_سر روکش_سطح_چرخ_مینائی
سبزہ کو جب کہیں جگہ نہ ملی بن گیا روئے_آب پر کائی
سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیے چشم_نرگس کو دی ہے بینائی
ہے ہوا میں شراب کی تاثیر بادہ_نوشی ہے بادہ_پیمائی
کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔ شاہ_دیں_دار نے شفا پائی