Phir hua waqt ke ho baal-kusha mauj-e-sharab
19th Century Mirza Ghalib Urduپھر ہوا وقت کہ ہو بال_کشا موج_شراب دے بط_مے کو دل_و_دست_شنا موج_شراب
پوچھ مت وجہ_سیہ_مستیٔ_ارباب_چمن سایۂ_تاک میں ہوتی ہے ہوا موج_شراب
جو ہوا غرقۂ_مے بخت_رسا رکھتا ہے سر سے گزرے پہ بھی ہے بال_ہما موج_شراب
ہے یہ برسات وہ موسم کہ عجب کیا ہے اگر موج_ہستی کو کرے فیض_ہوا موج_شراب
چار موج اٹھتی ہے طوفان_طرب سے ہر سو موج_گل موج_شفق موج_صبا موج_شراب
جس قدر روح_نباتی ہے جگر تشنۂ_ناز دے ہے تسکیں بہ_دم_آب_بقا موج_شراب
بسکہ دوڑے ہے رگ_تاک میں خوں ہو ہو کر شہپر_رنگ سے ہے بال_کشا موج_شراب
موجۂ_گل سے چراغاں ہے گزر_گاہ_خیال ہے تصور میں ز_بس جلوہ_نما موج_شراب
نشہ کے پردے میں ہے محو_تماشائے_دماغ بسکہ رکھتی ہے سر_نشو_و_نما موج_شراب
ایک عالم پہ ہیں طوفانی_کیفیت_فصل موجۂ_سبزۂ_نو_خیز سے تا موج_شراب
شرح_ہنگامۂ_ہستی ہے زہے موسم_گل رہبر_قطرہ_بہ_دریا ہے خوشا موج_شراب
ہوش اڑتے ہیں مرے جلوۂ_گل دیکھ اسدؔ پھر ہوا وقت کہ ہو بال_کشا موج_شراب