Naqsh faryadi hai kis ki shokhi-e-tehreer ka
19th Century Mirza Ghalib Urduنقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ_تحریر کا کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر_تصویر کا
کاو کاو_سخت_جانی ہائے_تنہائی نہ پوچھ صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے_شیر کا
جذبۂ_بے_اختیار_شوق دیکھا چاہیے سینۂ_شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
آگہی دام_شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقا ہے اپنے عالم_تقریر کا
بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر_پا موئے_آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا
آتشیں_پا ہوں گداز_وحشت_زنداں نہ پوچھ موئے_آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا
شوخیٔ_نیرنگ صید_وحشت_طاؤس ہے دام_سبزہ میں ہے پرواز_چمن تسخیر کا
لذت_ایجاد_ناز افسون_عرض_ذوق_قتل نعل آتش میں ہے تیغ_یار سے نخچیر کا
خشت پشت_دست_عجز و قالب آغوش_وداع پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا
وحشت_خواب_عدم شور_تماشا ہے اسدؔ جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ_تعبیر کا