Nala juz husn-e-talab ae sitam-ejaad nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduنالہ جز حسن_طلب اے ستم_ایجاد نہیں ہے تقاضائے_جفا شکوۂ_بیداد نہیں
عشق_و_مزدوری_عشرت_گہ_خسرو کیا خوب ہم کو تسلیم نکو_نامی_فرہاد نہیں
کم نہیں وہ بھی خرابی میں پہ وسعت معلوم دشت میں ہے مجھے وہ عیش کہ گھر یاد نہیں
اہل_بینش کو ہے طوفان_حوادث مکتب لطمۂ_موج کم_از سیلئ_استاد نہیں
وائے محرومی_تسلیم_و_بدا حال_وفا جانتا ہے کہ ہمیں طاقت_فریاد نہیں
رنگ_تمکین_گل_و_لالہ پریشاں کیوں ہے گر چراغان_سر_رہ_گزر_باد نہیں
سبد_گل کے تلے بند کرے ہے گلچیں مژدہ اے مرغ کہ گلزار میں صیاد نہیں
نفی سے کرتی ہے اثبات تراوش گویا دی ہے جائے_دہن اس کو دم_ایجاد نہیں
کم نہیں جلوہ_گری میں ترے کوچے سے بہشت یہی نقشہ ہے ولے اس قدر آباد نہیں
کرتے کس منہ سے ہو غربت کی شکایت غالبؔ تم کو بے_مہری_یاران_وطن یاد نہیں