Nahin ke mujh ko qayamat ka aiteqad nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduنہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں شب_فراق سے روز_جزا زیاد نہیں
کوئی کہے کہ شب_مہ میں کیا برائی ہے بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں
جو آؤں سامنے ان کے تو مرحبا نہ کہیں جو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیرباد نہیں
کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں تو کہتے ہیں کہ آج بزم میں کچھ فتنہ_و_فساد نہیں
علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شراب گدائے_کوچۂ_مے_خانہ نا_مراد نہیں
جہاں میں ہو غم_شادی بہم ہمیں کیا کام دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں
تم ان کے وعدہ کا ذکر ان سے کیوں کرو غالبؔ یہ کیا کہ تم کہو اور وہ کہیں کہ یاد نہیں