Ki wafa hum se to ghair uss ko jafa kehte hain
19th Century Mirza Ghalib Urduکی وفا ہم سے تو غیر اس کو جفا کہتے ہیں ہوتی آئی ہے کہ اچھوں کو برا کہتے ہیں
آج ہم اپنی پریشانی_خاطر ان سے کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیے کیا کہتے ہیں
اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو جو مے و نغمہ کو اندوہ_ربا کہتے ہیں
دل میں آ جاے ہے ہوتی ہے جو فرصت غش سے اور پھر کون سے نالے کو رسا کہتے ہیں
ہے پرے_سرحد_ادراک سے اپنا مسجود قبلے کو اہل_نظر قبلہ_نما کہتے ہیں
پائے_افگار پہ جب سے تجھے رحم آیا ہے خار_رہ کو ترے ہم مہر_گیا کہتے ہیں
اک شرر دل میں ہے اس سے کوئی گھبرائے_گا کیا آگ مطلوب ہے ہم کو جو ہوا کہتے ہیں
دیکھیے لاتی ہے اس شوخ کی نخوت کیا رنگ اس کی ہر بات پہ ہم نام_خدا کہتے ہیں
وحشتؔ و شیفتہؔ اب مرثیہ کہویں شاید مر گیا غالبؔ_آشفتہ_نوا کہتے ہیں