Kisi ko de ke dil koi nawasanj-e-fughan kyun ho
19th Century Mirza Ghalib Urduکسی کو دے کے دل کوئی نواسنج_فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں_گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک_سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
کیا غم_خوار نے رسوا لگے آگ اس محبت کو نہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو
وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا تو پھر اے سنگ_دل تیرا ہی سنگ_آستاں کیوں ہو
قفس میں مجھ سے روداد_چمن کہتے نہ ڈر ہمدم گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
یہ کہہ سکتے ہو ہم دل میں نہیں ہیں پر یہ بتلاؤ کہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو
غلط ہے جذب_دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
یہ فتنہ آدمی کی خانہ_ویرانی کو کیا کم ہے ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو
یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیں عدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو
کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائی بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو
نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔ ترے بے_مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو