Aah ko chahiye ik umr asar hote tak
19th Century Mirza Ghalib Urduآہ کو چاہیے اک عمر اثر ہوتے تک کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
دام_ہر_موج میں ہے حلقۂ_صد_کام_نہنگ دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہوتے تک
عاشقی صبر_طلب اور تمنا بیتاب دل کا کیا رنگ کروں خون_جگر ہوتے تک
تا_قیامت شب_فرقت میں گزر جائے_گی عمر سات دن ہم پہ بھی بھاری ہیں سحر ہوتے تک
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو_گے لیکن خاک ہو جائیں_گے ہم تم کو خبر ہوتے تک
پرتو_خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہوتے تک
یک نظر بیش نہیں فرصت_ہستی غافل گرمیٔ_بزم ہے اک رقص_شرر ہوتے تک
غم_ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہوتے تک