Aaina dekh apna sa munh le ke reh gaye
19th Century Mirza Ghalib Urduآئینہ دیکھ اپنا سا منہ لے کے رہ گئے صاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا
قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریے اس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا
ضعف_جنوں کو وقت_تپش در بھی دور تھا اک گھر میں مختصر سا بیاباں ضرور تھا
اے وائے_غفلت_نگۂ_شوق ورنہ یاں ہر پارہ سنگ لخت_دل_کوہ_طور تھا
درس_تپش ہے برق کو اب جس کے نام سے وہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا
ہر رنگ میں جلا اسدؔ_فتنہ_انتظار پروانۂ_تجلی_شمع_ظہور تھا
شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کر پیمانہ رات ماہ کا لبریز_نور تھا
جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظر جوہر سواد_جلوۂ_مژگان_حور تھا