Aabroo kya khaak uss gul ki ke gulshan mein nahin
19th Century Mirza Ghalib Urduآبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیں ہے گریباں ننگ_پیراہن جو دامن میں نہیں
ضعف سے اے گریہ کچھ باقی مرے تن میں نہیں رنگ ہو کر اڑ گیا جو خوں کہ دامن میں نہیں
ہو گئے ہیں جمع اجزائے_نگاہ_آفتاب ذرے اس کے گھر کی دیواروں کے روزن میں نہیں
کیا کہوں تاریکی_زندان_غم اندھیر ہے پنبہ نور_صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
رونق_ہستی ہے عشق_خانہ ویراں ساز سے انجمن بے_شمع ہے گر برق خرمن میں نہیں
زخم سلوانے سے مجھ پر چارہ_جوئی کا ہے طعن غیر سمجھا ہے کہ لذت زخم_سوزن میں نہیں
بسکہ ہیں ہم اک بہار_ناز کے مارے ہوئے جلوۂ_گل کے سوا گرد اپنے مدفن میں نہیں
قطرہ قطرہ اک ہیولیٰ ہے نئے ناسور کا خوں بھی ذوق_درد سے فارغ مرے تن میں نہیں
لے گئی ساقی کی نخوت قلزم_آشامی مری موج_مے کی آج رگ مینا کی گردن میں نہیں
ہو فشار_ضعف میں کیا ناتوانی کی نمود قد کے جھکنے کی بھی گنجائش مرے تن میں نہیں
تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدر بے_تکلف ہوں وہ مشت_خس کہ گلخن میں نہیں