Aa ke meri jaan ko qarar nahin hai
19th Century Mirza Ghalib Urduآ کہ مری جان کو قرار نہیں ہے طاقت_بیداد_انتظار نہیں ہے
دیتے ہیں جنت حیات_دہر کے بدلے نشہ بہ_اندازۂ_خمار نہیں ہے
گریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کو ہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
ہم سے عبث ہے گمان_رنجش_خاطر خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے
دل سے اٹھا لطف_جلوہ_ہائے_معانی غیر_گل آئینۂ_بہار نہیں ہے
قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارے وائے اگر عہد استوار نہیں ہے
تو نے قسم مے_کشی کی کھائی ہے غالبؔ تیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے