Neemcha yaar ne jis waqt baghal mein maara
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduنیمچہ یار نے جس وقت بغل میں مارا جو چڑھا منہ اسے میدان_اجل میں مارا
مال جب اس نے بہت رد_و_بدل میں مارا ہم نے دل اپنا اٹھا اپنی بغل میں مارا
اس لب و چشم سے ہے زندگی و موت اپنی کہ کبھی پل میں جلایا کبھی پل میں مارا
کھینچ کر عشق_ستم_پیشہ نے شمشیر_جفا پہلے اک ہاتھ مجھی پر تھا ازل میں مارا
چرخ_بد_بیں کی کبھی آنکھ نہ پھوٹی سو بار تیر نالے نے مرے چشم_زحل میں مارا
اجل آئی نہ شب_ہجر میں اور ہم کو فلک بے_اجل تو نے تمنائے_اجل میں مارا
عشق کے ہاتھ سے نے قیس نہ فرہاد بچا اس کو گر دشت میں تو اس کو جبل میں مارا
دل کو اس کاکل_پیچاں سے نہ بل کرنا تھا یہ سیہ_بخت گیا اپنے ہی بل میں مارا
کون فریاد سنے زلف میں دل کی تو نے ہے مسلمان کو کافر کے عمل میں مارا
عرس کی شب بھی مری گور پہ دو پھول نہ لائے پتھر اک گنبد_تربت کے کنول میں مارا
آنکھ سے آنکھ ہے لڑتی مجھے ڈر ہے دل کا کہیں یہ جائے نہ اس جنگ_و_جدل میں مارا
ہم نے جانا تھا جبھی عشق نے مارا اس کو تیشہ فرہاد نے جس وقت جبل میں مارا
نہ ہوا پر نہ ہوا میرؔ کا انداز نصیب ذوقؔ یاروں نے بہت زور غزل میں مارا