Naala iss shor se kyun mera duhaai deta
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduنالہ اس شور سے کیوں میرا دہائی دیتا اے فلک گر تجھے اونچا نہ سنائی دیتا
دیکھ چھوٹوں کو ہے اللہ بڑائی دیتا آسماں آنکھ کے تل میں ہے دکھائی دیتا
لاکھ دیتا فلک آزار گوارہ تھے مگر ایک تیرا نہ مجھے درد_جدائی دیتا
دے دعا وادیٔ_پر_خار_جنوں کو ہر گام داد یہ تیری ہے اے آبلہ_پائی دیتا
روش_اشک گرا دیں_گے نظر سے اک دن ہے ان آنکھوں سے یہی مجھ کو دکھائی دیتا
منہ سے بس کرتے کبھی یہ نہ خدا کے بندے گر حریصوں کو خدا ساری خدائی دیتا
پنجۂ_مہر کو بھی خون_شفق میں ہر روز غوطے کیا کیا ہے ترا دست_حنائی دیتا
کون گھر آئنے کے آتا اگر وہ گھر میں خاکساری سے نہ جاروب_صفائی دیتا
میں ہوں وہ صید کہ پھر دام میں پھنستا جا کر گر قفس سے مجھے صیاد رہائی دیتا
خوگر_ناز ہوں کس کا کہ مجھے ساغر_مے بوسۂ_لب نہیں بے_چشم_نمائی دیتا
دیکھ گر دیکھنا ہے ذوقؔ کہ وہ پردہ_نشیں دیدۂ_روزن_دل سے ہے دکھائی دیتا