Na khencho aashiq-e-tishna-jigar ke teer pehlu se
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduنہ کھینچو عاشق_تشنہ_جگر کے تیر پہلو سے نکالے پر ہے مثل_ماہی_تصویر پہلو سے
نہ لے اے ناوک_افگن دل کو میرے چیر پہلو سے کہ وہ تو جا چکا ساتھ آہ کے جوں تیر پہلو سے
دل_سیپارہ کو لے ٹانک تعویذوں میں ہیکل کے نہ سرکا یہ حمائل اے بت_بے_پیر پہلو سے
وہ ہوں بے_دست_و_پا بسمل رسائی جب نہ ہاتھ آئی کیا تا پائے_قاتل از تہ_شمشیر پہلو سے
اسیر_زلف دیوانے ہیں دیکھ اے پاسباں شب کو دبا کر بیٹھ ان کے پاؤں کی زنجیر پہلو سے
مصور لیلیٰ و مجنوں کی ناکامی پہ حیراں ہیں کبھی بیٹھا نہ مل کر پہلوئے_تصویر پہلو سے
یہ دل لب_تشنہ تیغ_یار کا ہے رات بھر کرتا صدائے_العطش جوں نالۂ_شب_گیر پہلو سے
عجب حسرت کا عالم تھا کہ مجنوں کہتا تھا پیہم چھٹے پہلو مرے محمل کا یا تقدیر پہلو سے
نہ کہنا استخواں ان کو یہ عالم لاغری کا ہے کہ ہے دکھلا رہا میرا دل_دلگیر پہلو سے
خیال_ابروئے_جاناں نہیں اب بھولتا اک دم سپاہی ہے جدا کرتا نہیں شمشیر پہلو سے
تمام اہل_سخن بزم_سخن میں ذوقؔ حیراں ہیں ملا جو قافیہ تو نے کیا تحریر پہلو سے