Na karta zabt main naala to phir aisa dhuaan hota
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduنہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا کہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا
کہے ہے مرغ_دل اے کاش میں زاغ_کماں ہوتا کہ تا شاخ_کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا
ابھی کیا سرد قاتل یہ شہید_تفتہ_جاں ہوتا کوئی دم شمع_مردہ میں بھی ہے باقی دھواں ہوتا
نہ ہوتی دل میں کاوش گر کسی کی نوک_مژگاں کی تو کیوں حق میں مرے ہر موئے_تن مثل_سناں ہوتا
عزا_داری میں ہے کس کی یہ چرخ_ماتمی_جامہ کہ حبیب_چاک کی صورت ہے خط_کہکشاں ہوتا
بگولا گر نہ ہوتا وادئ_وحشت میں اے مجنوں تو گنبد ہم سے سرگشتوں کی تربت پر کہاں ہوتا
جو روتا کھول کر دل تنگ_نائے_دہر میں عاشق تو جوئے_کہکشاں میں بھی فلک پر خوں رواں ہوتا
نہ رکھتا گر نہ رکھتا منہ پہ یہ دانا مریض_غم مگر تیرا میسر بوسۂ_خال_دہاں ہوتا
ترے خونیں جگر کی خاک پر ہوتا اگر سبزہ تو مژگاں کی طرح اس سے بھی پیہم خوں رواں ہوتا
رکاوٹ دل کی اس کافر کے وقت_ذبح ظاہر ہے کہ خنجر میری گردن پر ہے رک رک کر رواں ہوتا
نہ کرتا ضبط میں گریہ تو اے ذوقؔ اک گھڑی بھر میں کٹورے کی طرح گھڑیال کے غرق آسماں ہوتا