Mere seene se tera teer jab ae jangjoo nikla
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduمرے سینے سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا دہان_زخم سے خوں ہو کے حرف_آرزو نکلا
مرا گھر تیری منزل_گاہ ہو ایسے کہاں طالع خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہ_رو نکلا
پھرا گر آسماں تو شوق میں تیرے ہے سرگرداں اگر خورشید نکلا تیرا گرم_جستجو نکلا
مئے_عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم وہ تھا لبریز_غم اس خمکدہ سے جو سبو نکلا
ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا رہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا
کہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا پھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں سے تو نکلا
خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویا تو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخ_رو نکلا
گھسے سب ناخن_تدبیر اور ٹوٹی سر_سوزن مگر تھا دل میں جو کانٹا نہ ہرگز وہ کبھو نکلا
اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو جسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نکلا