Maraz-e-ishq jise ho use kya yaad rahe
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduمرض_عشق جسے ہو اسے کیا یاد رہے نہ دوا یاد رہے اور نہ دعا یاد رہے
تم جسے یاد کرو پھر اسے کیا یاد رہے نہ خدائی کی ہو پروا نہ خدا یاد رہے
لوٹتے سیکڑوں نخچیر ہیں کیا یاد رہے چیر دو سینے میں دل کو کہ پتا یاد رہے
رات کا وعدہ ہے بندے سے اگر بندہ_نواز بند میں دے لو گرہ تا کہ ذرا یاد رہے
قاصد_عاشق_سودا_زدہ کیا لائے جواب جب نہ معلوم ہو گھر اور نہ پتا یاد رہے
دیکھ بھی لینا ہمیں راہ میں اور کیوں صاحب ہم سے منہ پھیر کے جانا یہ بھلا یاد رہے
تیرے مدہوش سے کیا ہوش و خرد کی ہو امید رات کا بھی نہ جسے کھایا ہوا یاد رہے
کشتۂ_ناز کی گردن پہ چھری پھیرو جب کاش اس وقت تمہیں نام_خدا یاد رہے
خاک برباد نہ کرنا مری اس کوچے میں تجھ سے کہہ دیتا ہوں میں باد_صبا یاد رہے
گور تک آئے تو چھاتی پہ قدم بھی رکھ دو کوئی بیدل ادھر آئے تو پتا یاد رہے
تیرا عاشق نہ ہو آسودہ بہ_زیر_طوبیٰ خلد میں بھی ترے کوچے کی ہوا یاد رہے
باز آ جائیں جفا سے جو کبھی آپ تو پھر یاد عاشق کو نہ کیجے_گا بھلا یاد رہے
داغ_دل پر مرے پھاہا نہیں ہے انگارا چارہ_گر لیجو نہ چٹکی سے اٹھا یاد رہے
زخم_دل بولے مرے دل کے نمک_خواروں سے لو بھلا کچھ تو محبت کا مزا یاد رہے
حضرت_عشق کے مکتب میں ہے تعلیم کچھ اور یاں لکھا یاد رہے اور نہ پڑھا یاد رہے
گر حقیقت میں ہے رہنا تو نہ رکھ خود_بینی بھولے بندہ جو خودی کو تو خدا یاد رہے
عالم_حسن خدائی ہے بتوں کی اے ذوقؔ چل کے بت_خانے میں بیٹھو کہ خدا یاد رہے