Maza tha hum ko jo Laila se do-ba-do karte
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduمزہ تھا ہم کو جو لیلیٰ سے دو_بہ_دو کرتے کہ گل تمہاری بہاروں میں آرزو کرتے
مزے جو موت کے عاشق بیاں کبھو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے
غرض تھی کیا ترے تیروں کو آب_پیکاں سے مگر زیارت_دل کیوں کہ بے_وضو کرتے
عجب نہ تھا کہ زمانے کے انقلاب سے ہم تیمم آب سے اور خاک سے وضو کرتے
اگر یہ جانتے چن چن کے ہم کو توڑیں_گے تو گل کبھی نہ تمنائے_رنگ_و_بو کرتے
سمجھ یہ دار_و_رسن تار_و_سوزن اے منصور کہ چاک_پردہ حقیقت کا ہیں رفو کرتے
یقیں ہے صبح_قیامت کو بھی صبوحی_کش اٹھیں_گے خواب سے ساقی سبو سبو کرتے
نہ رہتی یوسف_کنعاں کی گرمئ_بازار مقابلے میں جو ہم تجھ کو روبرو کرتے
چمن بھی دیکھتے گلزار_آرزو کی بہار تمہاری باد_بہاری میں آرزو کرتے
سراغ عمر_گزشتہ کا کیجئے گر ذوقؔ تمام عمر گزر جائے جستجو کرتے