Chashm-e-qaatil humein kyonkar na bhala yaad rahe
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduچشم_قاتل ہمیں کیونکر نہ بھلا یاد رہے موت انسان کو لازم ہے سدا یاد رہے
میرا خوں ہے ترے کوچے میں بہا یاد رہے یہ بہا وہ نہیں جس کا نہ بہا یاد رہے
کشتۂ_زلف کے مرقد پہ تو اے لیلی_وش بید_مجنوں ہی لگا تاکہ پتا یاد رہے
خاکساری ہے عجب وصف کہ جوں جوں ہو سوا ہو صفا اور دل_اہل_صفا یاد رہے
ہو یہ لبیک_حرم یا یہ اذان_مسجد مے_کشو قلقل_مینا کی صدا یاد رہے
یاد اس وعدہ_فراموش نے غیروں سے بدی یاد کچھ کم تو نہ تھی اور سوا یاد رہے
خط بھی لکھتے ہیں تو لیتے ہیں خطائی کاغذ دیکھیے کب تک انہیں میری خطا یاد رہے
دو ورق میں کف_حسرت کے دو عالم کا ہے علم سبق_عشق اگر تجھ کو دلا یاد رہے
قتل_عاشق پہ کمر باندھی ہے اے دل اس نے پر خدا ہے کہ اسے نام مرا یاد رہے
طائر_قبلہ_نما بن کے کہا دل نے مجھے کہ تڑپ کر یوں ہی مر جائے_گا جا یاد رہے
جب یہ دیں_دار ہیں دنیا کی نمازیں پڑھتے کاش اس وقت انہیں نام_خدا یاد رہے
ہم پہ سو بار جفا ہو تو رکھو ایک نہ یاد بھول کر بھی کبھی ہووے تو وفا یاد رہے
محو اتنا بھی نہ ہو عشق_بتاں میں اے ذوقؔ چاہیئے بندے کو ہر وقت خدا یاد رہے