Bazm mein zikr mera lab pe woh laaye to sahi
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduبزم میں ذکر مرا لب پہ وہ لائے تو سہی وہیں معلوم کروں ہونٹ ہلائے تو سہی
سنگ پر سنگ ہر اک کوچہ میں کھائے تو سہی پر بلا سے ترے دیوانے کھائے تو سہی
گو جنازے پہ نہیں قبر پہ آئے وہ مری شکوہ کیا کیجے غنیمت ہے کہ آئے تو سہی
کیونکہ دیوار پہ چڑھ جاؤں کوئی کہتا ہے پاؤں کاٹوں_گا انگوٹھا وہ جمائے تو سہی
پارۂ_مصحف_دل تھے ترے کوچہ میں پڑے آتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی
صاف بے_پردہ نہیں ہوتا وہ غرفہ میں نہ ہو روزن_در سے کبھی آنکھ لڑائے تو سہی
گہ بڑھاتا ہے گہے مہ کو گھٹاتا ہے فلک پر شب_ہجر کو ہم دیکھیں گھٹائے تو سہی
کروں اک نالے سے میں حشر میں برپا سو حشر شور_محشر مجھے سوتے سے جگائے تو سہی
گر پڑے تھے کئی اس کوچے میں دل کے ٹکڑے آتے پاؤں کے تلے شکر کہ پائے تو سہی
تھے تمہیں نکلے جو اس دام_بلا سے اے ذوقؔ ورنہ تھے پیچ میں اس زلف کے آئے تو سہی