Balaaein aankhon se un ki madaam lete hain
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduبلائیں آنکھوں سے ان کی مدام لیتے ہیں ہم اپنے ہاتھوں کا مژگاں سے کام لیتے ہیں
ہم ان کی زلف سے سودا جو وام لیتے ہیں تو اصل و سود وہ سب دام دام لیتے ہیں
شب_وصال کے روز_فراق میں کیا کیا نصیب مجھ سے مرے انتقام لیتے ہیں
قمر ہی داغ_غلامی فقط نہیں رکھتا وہ مول ایسے ہزاروں غلام لیتے ہیں
ہم ان کے زور کے قائل ہیں ہیں وہی شہ_زور جو عشق میں دل_مضطر کو تھام لیتے ہیں
قتیل_ناز بتاتے نہیں تجھے قاتل جب ان سے پوچھو اجل ہی کا نام لیتے ہیں
ترے اسیر جو صیاد کرتے ہیں فریاد تو پھر وہ دم ہی نہیں زیر_دام لیتے ہیں
جھکائے ہے سر_تسلیم ماہ_نو پر وہ غرور_حسن سے کس کا سلام لیتے ہیں
ترے خرام کے پیرو ہیں جتنے فتنے ہیں قدم سب آن کے وقت_خرام لیتے ہیں
ہمارے ہاتھ سے اے ذوقؔ وقت_مے_نوشی ہزار ناز سے وہ ایک جام لیتے ہیں