Azeezo is ko na ghadiyal ki sada samjho
19th Century Sheikh Ibrahim Zauq Urduعزیزو اس کو نہ گھڑیال کی صدا سمجھو یہ عمر_رفتہ کی اپنی صدائے_پا سمجھو
بجا کہے جسے عالم اسے بجا سمجھو زبان_خلق کو نقارۂ_خدا سمجھو
نہ سمجھو دشت شفاخانۂ_جنوں ہے یہ جو خاک سی بھی پڑے پھانکنی دوا سمجھو
سمجھ تو کورسوادوں کو ہو جو علم نہ ہو اگر سمجھ بھی نہ ہو کور_بے_عصا سمجھو
پڑے کتاب کے قصوں میں کیا کرو دل صاف صفا ہو دل تو بہ_از روضۃ_الصفا سمجھو
ہنسے جو وہ مرے رونے پہ تو صف_مژگاں نہ سمجھو تم اسے دیوار_قہقہا سمجھو
نفس کی آمد_و_شد ہے نماز_اہل_حیات جو یہ قضا ہو تو اے غافلو قضا سمجھو
تمہاری راہ میں ملتے ہیں خاک میں لاکھوں اس آرزو میں کہ تم اپنا خاک_پا سمجھو
دعائیں دیتے ہیں ہم دل سے تیغ_قاتل کو لب_جراحت_دل کو لب_دعا سمجھو
بہا دیا مرا خوں اس نے اپنے کوچے میں اسی کو یارو دیت سمجھو خوں_بہا سمجھو
سمجھ ہے اور تمہاری کہوں میں تم سے کیا تم اپنے دل میں خدا جانے سن کے کیا سمجھو
تمہیں ہے نام سے کیا کام مثل_آئینہ جو روبرو ہو اسے صورت_آشنا سمجھو
زہے نصیب کہ ہنگام_مشق تیر_ستم ہمارے ڈھیر کو تم تو وہ خاک کا سمجھو
نہیں ہے کم زر_خالص سے زردی_رخسار تم اپنے عشق کو اے ذوقؔ کیمیا سمجھو