Juz Qais aur koi na aaya ba-ru-e-kaar
19th Century Mirza Ghalib Urduجز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے_کار صحرا مگر بہ_تنگی_چشم_حسود تھا
آشفتگی نے نقش_سویدا کیا درست ظاہر ہوا کہ داغ کا سرمایہ دود تھا
تھا خواب میں خیال کو تجھ سے معاملہ جب آنکھ کھل گئی نہ زیاں تھا نہ سود تھا
لیتا ہوں مکتب_غم_دل میں سبق ہنوز لیکن یہی کہ رفت گیا اور بود تھا
ڈھانپا کفن نے داغ_عیوب_برہنگی میں ورنہ ہر لباس میں ننگ_وجود تھا
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ_کن اسدؔ سرگشتۂ_خمار_رسوم_و_قیود تھا
عالم جہاں بہ_عرض_بساط_وجود تھا جوں صبح چاک_جیب مجھے تار_و_پود تھا
بازی_خور_فریب ہے اہل_نظر کا ذوق ہنگامہ گرم_حیرت_بود_و_نبود تھا
عالم طلسم_شہر_خموشی ہے سربسر یا میں غریب_کشور_گفت_و_شنود تھا
تنگی رفیق_رہ تھی عدم یا وجود تھا میرا سفر بہ_طالع_چشم_حسود تھا
تو یک_جہاں قماش_ہوس جمع کر کہ میں حیرت_متاع_عالم_نقصان_و_سود تھا
گردش_محیط_ظلم رہا جس قدر فلک میں پائمال_غمزۂ_چشم_کبود تھا
پوچھا تھا گرچہ یار نے احوال_دل مگر کس کو دماغ_منت_گفت_و_شنود تھا
خور شبنم_آشنا نہ ہوا ورنہ میں اسدؔ سر_تا_قدم گزارش_ذوق_سجود تھا