Junoon tohmat-kash-e-taskeen na ho gar shadmani ki
19th Century Mirza Ghalib Urduجنوں تہمت_کش_تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی نمک_پاش_خراش_دل ہے لذت زندگانی کی
کشاکش_ہاۓ_ہستی سے کرے کیا سعی_آزادی ہوئی زنجیر_موج_آب کو فرصت روانی کی
پس_از_مردن بھی دیوانہ زیارت_گاہ_طفلاں ہے شرار_سنگ نے تربت پہ میری گل_فشانی کی
نہ کھینچ اے سعیٔ_دست_نارسا زلف_تمنا کو پریشاں_تر ہے موئے_خامہ سے تدبیر مانی کی
کہاں ہم بھی رگ_و_پے رکھتے ہیں انصاف بہتر ہے نہ کھینچے طاقت_خمیازہ تہمت ناتوانی کی
تکلف_برطرف فرہاد اور اتنی سبکدستی خیال آساں تھا لیکن خواب_خسرو نے گرانی کی
اسدؔ کو بوریے میں دھر کے پھونکا موج_ہستی نے فقیری میں بھی باقی ہے شرارت نوجوانی کی